15 جون 2026 - 17:03
ماکرون کی نئی شرط؛ فرانس نے ایران کے میزائل پروگرام کو بھی مذاکرات میں شامل کرنے کا مطالبہ کر دیا

فرانسیسی صدر ایمانویل ماکرون نے ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمت کے چند گھنٹوں بعد مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ مذاکرات میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی شامل کیا جائے، جبکہ ایرانی جوہری سرگرمیوں کو محدود اور بین الاقوامی نگرانی میں لانے پر بھی زور دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمت کے فوراً بعد فرانس کے صدر ایمانویل ماکرون نے ایک بار پھر ایران کے میزائل پروگرام کو موضوعِ بحث بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ مذاکرات میں بیلسٹک میزائلوں کا معاملہ بھی شامل کیا جائے۔

یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنے دفاعی اور میزائل پروگرام پر کسی قسم کے مذاکرات نہیں کرے گا۔ اس کے باوجود یورپی رہنما مسلسل ایران کی میزائل صلاحیتوں کو محدود کرنے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔

ماکرون نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی مفاہمت پر گروپ سیون (G7) کے اجلاس میں بھی تفصیلی گفتگو ہوگی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ اجلاس میں اس معاہدے کے اثرات، لبنان کی حمایت، آبنائے ہرمز کی طویل المدتی بحالی اور ایران کے جوہری و بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق ممکنہ معاہدے پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

فرانس کے تفریحی شہر ایویان-لے-بان میں پیر کے روز شروع ہونے والے گروپ سیون اجلاس میں امریکہ، فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، جاپان اور کینیڈا کے رہنما شریک ہیں، جبکہ مصر، قطر اور متحدہ عرب امارات کے نمائندے بھی بعض نشستوں میں شرکت کریں گے۔

فرانسیسی صدر نے اپنی گفتگو میں اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کی یورینیم سے متعلق سرگرمیوں اور جوہری صلاحیتوں کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں "محدود اور غیر فعال" بنایا جانا چاہیے۔

ماکرون نے آبنائے ہرمز کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گروپ سیون کے رکن ممالک اس اہم آبی گذرگاہ کو مکمل طور پر کھلا رکھنے کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔ ان کے مطابق برطانیہ، فرانس، اٹلی اور نیدرلینڈز آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ مشن میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں اور کسی معاہدے کے بعد یہ مشن دو سے تین روز کے اندر شروع کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فرانس اور برطانیہ اس مجوزہ مشن کی قیادت کریں گے تاکہ خطے میں بحری آمدورفت اور توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha